Pages

Thursday, August 6, 2015

پاکستان میں سیلاب


پاکستان میں سیلاب
آرٹیکل : شاہین رشید
پاکستان میں سیلاب آنا اب معمول ہوگیاہے ہمارے ہاں کسی چیز سے تباہی کا سلسلہ شروع ہوجائے تو اُسے ختم کرنا ایک ناممکن سی بات ہے چاہے وہ ڈینگی ہو، ڈرون حملے ہو،خودکش بم دھماکے یا اس سال بھی ہر سال کی طرح آنے والا سیلاب مگر ہماری حکومت نے ان سے نمٹنے کا کوئی راستہ نہیں نکالا۔ان تباہیوں سے ہونے والے نقصانات خواہ وہ جانی ہو یامالی ان سے نمٹنے کے لئے اگر عوام اپنی مدد آپ کے ذریعے کچھ کرئے تو ہم ان بڑے بڑے ہونے والے نقصانات سے تھوڑے محفوظ ہوجاتے ہیں ورنہ ہمارے انتظامی ادارے تو صرف باتیں کرنے کے لئے رہ گئے ہیں، اگر وہ عوام کے لیے کام کریں تو عوام آنے والے دور میں بھی ایسے ہی انتظامی اداروں کی حمایت کرے گے۔

رواں سال یعنی 2013میں بھی پاکستان میں سیلاب نے تباہی مچائی مگر 2010یا 2011میں یہ تباہی زیادہ تھی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمینٹ اتھارٹی کے مطابق اس سال پاکستان میں آنے والے سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 66لاکھ کے قریب ہے جس میں بہت سی اموات گھروں کے منہدم ہونے اور کرنٹ لگنے سے واقع ہوئی اور147.028ملین ایکڑ فصلوں کو سیلاب کی وجہ سے نقصان پہنچا 2374گھر تباہی کی نذر ہوگئے ہمارے غریب لوگ کس طرح تنکا تنکا کرکے اپنا گھر تعمیر کرتے ہیں اور کن مشکلات کا سامنا کرکے اتنی محنت سے فصلیں لگاتے اور دو دو لاکھ روپے جمع کرکے گائے اور بھینسیں خریدتے ہیں لیکن دریاؤں میں آنے والا سیلاب کتنی آسانی سے ان غریبوں کو تباہ وبرباد کر جاتا ہے پھر سیلابی پانی کے واپس ہونے تک ان غریبوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسکا تصور ہی خوف ناک ہے۔
یہ درست ہے کہ قدرتی آفات کا سو فیصد مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا ترقی یافتہ ممالک میں جن کے پاس ہر قسم کے وسائل ہے وہاں بھی سیلاب اور طوفان بڑی تباہی مچاتے ہیں لیکن وہاں اس سے متاثر ہونے والے افراد کے پاس امداد پہچانے میں دیر نہیں کی جاتی اور نہ آئندہ کے لئے احتیاطی اور حفاطتی تدابیر اپنانے میں سستی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اگر ہم بھی وقت پر سیلاب پر قابو پانے کی کوشش کریں تو اب تک کچھ نہ کچھ حل نکالنے میں کامیاب ہو جائیں۔
بارشوں کا موسم ہر سال آتا ہے اورمحکمہ موسمیات پہلے ہی پیش گوئی کردیتا ہے کہ اس سال بارشیں کتنی حد تک زیادہ یا کم ہوگی اس طرح کی پیشن گوئی کا مقصد صرف اور صرف عوام اور حکومت کو خبردار کرنا ہے تاکہ وہ احتیاطی تدابیر اپنائیں لیکن وہ ملک ہی کیا جہاں پاکستان کی جیسی عوام اور حکومت نہ ہو۔

ماضی کے بعد اس سال بھی بارشوں اور سیلاب کے بعد جس طرح کی کیفیت کا سامنا ہوا اس سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سیلاب سے نمٹنے کیلئے کوئی خاص تیاری نہیں کی گئی۔

(نومبر 2013)شاہین رشید ایم اے پریوئس سیکنڈ سیمسٹر کی طالبہ ہیں۔

Practical work was done under supervision of Sir Sohail Sangi

No comments:

Post a Comment