دلچسپ سفر
صدف شفقت
حیدرآباد سے جب ہم میر پورخاص جانے کیلئے کوچ میں بیٹھے تو خوش تھے کہ آخر کار ہاسٹل کی چھٹیوں کے بعد گھر جارہے ہیں گھر والوں سے ملنے کی خوشی جون کی گرمی پر حاوی تھی،کوچ میں بیٹھتے ہی سکون ملا کہ رش زیادہ نہیں ہے ، مگر یہ کیا۔۔؟کچھ ہی دیر میں اتنا رش ہوگیا کہ پاؤں رکھنے کی جگہ نہ تھی،خوشی اس با ت کی تھی کہ ہم کھڑکی کی طرف بیٹھے تھے او ر بھلا ہو اس ڈرایؤر کا اُس نے گانے چلادیئے لیکن گانے بھی ایسے کہ دل ہی جل جائے اس سے تو لوگوں کی چیخ وپکار اور گاڑیوں کا شور بہتر تھا،خیر کچھ ہی دیر میں ڈرائیور نے کوچ کو چلنے کا اشارہ دیا ۔
کوچ چلنے کی دیر تھی کہ ہم نے اس کا جائزہ لینا شروع کردیا دیکھا کہ برابر میں ہی آنٹی اپنے پانچ بچوں کے ہمراہ بیٹھی تھی اور ان کے مختلف سائز کے بچے ہر پانچ منٹ بعد کچھ مانگتے اور وہ خراجِ تحسین کے نام پر رکھ کے ایک چماٹ دیتی یہ دیکھ کر لبوں پر ہنسی آجاتی۔
میں نے کھڑکی سے با ہر نگاہ کی توبھاگتے دوڑتے مناظر میں ایک دم تیزی آگئی کوچ جگہ جگہ رکتی مسافر اپنی منزل پر اُترتے کچھ اپنی منزل پر جانے کیلئے چڑھتے، ٹنڈو الہیار کے اسٹاپ پر کوچ رکی توگر می کا احساس بڑھ گیااوپر سے لوگوں کے رش سے مجھے بہت کوفت محسوس ہورہی تھی،اتنے میں ایک بچے کی آواز نے مجھے اس کی طرف متوجہ کیا جو کہ پانی کی بوتل بیچ رہا تھا اور میرے نہ لینے پر اس کے چہرے پر مایوسی آگئی اور ایسا دیکھ میں نے اُس سے پانی لے لیا اور وہ خوشی خوشی چلا گیا اُس کی خوشی کے بعد میرا دل یہ سوچ کے اُداس ہوگیا کہ اس ملک کے حا لات کب ٹھیک ہنوگے ننھے ہاتھ جو پانی کی بوتلیں اُٹھائے ہوئے ہیں ان میں کتابیں کیوں نہیں ہیں میں اس افسوس میں گم تھی کہ دیگر چیزیں بیچنے والوں کی بھی صدائیں بلند ہونے لگیں کچھ اندر اور کچھ کوچ کے باہر سے اپنی چیزیں فروخت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔
ڈرائیور نے ایک بار پھر سے کوچ بھگانے کا ارادہ کیا،پاس بیٹھے آنٹی نے آخر کار اپنے بچوں کے مطالبات کو مدِنظر رکھااور اُن پہ احسانِ عظیم کرتے ہوئے اُنہیں چیز دلا ہی دی ،اور کچھ دیر میں وہی سلسلہ شروع ہوگیا مسافروں کی منزلیں آتی گئی اور وہ اترتے گئے۔
آخر کا ر مجھے بھی اپنی منزل نظر آہی گئی میں نے اُٹھنے کی تیاری کی اُترتے ہی مجھے میرے بابا نظر آگئے جو مجھے لینے آئے تھے،اُنہیں دیکھتے ہی میں خوشی سے اُن کی طرف بھاگی اتنے دنوں بعد اُنہیں دیکھا تو آنکھوں میں خوشی سے آنسو آگئے پھر ہم گاڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
بہر حال سفر کا اختتام ہوا خاص کچھ نہ تھا مگر پھر بھی یادگار اوردلچسپ سفر بن گیا۔
(2013)
صدف شفقت ایم اے پریوئس کی طالبہ ہیں
صدف شفقت
حیدرآباد سے جب ہم میر پورخاص جانے کیلئے کوچ میں بیٹھے تو خوش تھے کہ آخر کار ہاسٹل کی چھٹیوں کے بعد گھر جارہے ہیں گھر والوں سے ملنے کی خوشی جون کی گرمی پر حاوی تھی،کوچ میں بیٹھتے ہی سکون ملا کہ رش زیادہ نہیں ہے ، مگر یہ کیا۔۔؟کچھ ہی دیر میں اتنا رش ہوگیا کہ پاؤں رکھنے کی جگہ نہ تھی،خوشی اس با ت کی تھی کہ ہم کھڑکی کی طرف بیٹھے تھے او ر بھلا ہو اس ڈرایؤر کا اُس نے گانے چلادیئے لیکن گانے بھی ایسے کہ دل ہی جل جائے اس سے تو لوگوں کی چیخ وپکار اور گاڑیوں کا شور بہتر تھا،خیر کچھ ہی دیر میں ڈرائیور نے کوچ کو چلنے کا اشارہ دیا ۔
کوچ چلنے کی دیر تھی کہ ہم نے اس کا جائزہ لینا شروع کردیا دیکھا کہ برابر میں ہی آنٹی اپنے پانچ بچوں کے ہمراہ بیٹھی تھی اور ان کے مختلف سائز کے بچے ہر پانچ منٹ بعد کچھ مانگتے اور وہ خراجِ تحسین کے نام پر رکھ کے ایک چماٹ دیتی یہ دیکھ کر لبوں پر ہنسی آجاتی۔
میں نے کھڑکی سے با ہر نگاہ کی توبھاگتے دوڑتے مناظر میں ایک دم تیزی آگئی کوچ جگہ جگہ رکتی مسافر اپنی منزل پر اُترتے کچھ اپنی منزل پر جانے کیلئے چڑھتے، ٹنڈو الہیار کے اسٹاپ پر کوچ رکی توگر می کا احساس بڑھ گیااوپر سے لوگوں کے رش سے مجھے بہت کوفت محسوس ہورہی تھی،اتنے میں ایک بچے کی آواز نے مجھے اس کی طرف متوجہ کیا جو کہ پانی کی بوتل بیچ رہا تھا اور میرے نہ لینے پر اس کے چہرے پر مایوسی آگئی اور ایسا دیکھ میں نے اُس سے پانی لے لیا اور وہ خوشی خوشی چلا گیا اُس کی خوشی کے بعد میرا دل یہ سوچ کے اُداس ہوگیا کہ اس ملک کے حا لات کب ٹھیک ہنوگے ننھے ہاتھ جو پانی کی بوتلیں اُٹھائے ہوئے ہیں ان میں کتابیں کیوں نہیں ہیں میں اس افسوس میں گم تھی کہ دیگر چیزیں بیچنے والوں کی بھی صدائیں بلند ہونے لگیں کچھ اندر اور کچھ کوچ کے باہر سے اپنی چیزیں فروخت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔
ڈرائیور نے ایک بار پھر سے کوچ بھگانے کا ارادہ کیا،پاس بیٹھے آنٹی نے آخر کار اپنے بچوں کے مطالبات کو مدِنظر رکھااور اُن پہ احسانِ عظیم کرتے ہوئے اُنہیں چیز دلا ہی دی ،اور کچھ دیر میں وہی سلسلہ شروع ہوگیا مسافروں کی منزلیں آتی گئی اور وہ اترتے گئے۔
آخر کا ر مجھے بھی اپنی منزل نظر آہی گئی میں نے اُٹھنے کی تیاری کی اُترتے ہی مجھے میرے بابا نظر آگئے جو مجھے لینے آئے تھے،اُنہیں دیکھتے ہی میں خوشی سے اُن کی طرف بھاگی اتنے دنوں بعد اُنہیں دیکھا تو آنکھوں میں خوشی سے آنسو آگئے پھر ہم گاڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
بہر حال سفر کا اختتام ہوا خاص کچھ نہ تھا مگر پھر بھی یادگار اوردلچسپ سفر بن گیا۔
(2013)
صدف شفقت ایم اے پریوئس کی طالبہ ہیں
Sadaf Shafqat
Practical work was done under supervision of Sir Sohail Sangi
Very weak, There are many more things during journey from Hyd to Mirpurkhas
ReplyDelete