Pages

Showing posts with label شاہین رشید. Show all posts
Showing posts with label شاہین رشید. Show all posts

Thursday, August 6, 2015

سید عارفین رپورٹر جیو نیوز سے انٹرویو

سید عارفین رپورٹر جیو نیوز
شاہین رشید
انٹرویو
میڈیا میں مختلف قسم کے کام ہوتے ہیں او ر اس کو کئی حصوں میں بانٹا ہوا ہے رپورٹنگ کی بھی مختلف اقسام ہیں جیسے سو شل ایشو کا الگ رپورٹر ،اکنامکس کا الگ اسپورٹس کا الگ اسی طرح کرائم رپورٹنگ بھی ایک علیحدہ رپورٹنگ ہے جو تمام اقسام سے مشکل اور خطر ناک ہے اور کرائم رپورٹر بننا ہر کسی کہ بس کی بات بھی نہیں ہم بھی آپ کو ایک کرائم رپورٹر کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جن کا نام سید عارفین ہے اور جیو نیوز میں پروگرام آج کامران خان کے ساتھ بطور نمائندہ خصوصی فرائض انجام دے رہے ہیں۔
سوال: جو نئے رپورٹرز اس میدان میں جدوجہد کررہے ہیں ان کو کیا مسائل درپیش ہے ؟
جواب: ملک میں اس وقت لگ بھگ پچاس نیوز چینلز کام کررہے ہیں جس دس اہم اور بڑے چینلز بھی شامل ہیں۔ نوجوان نسل میں اب نیوز چینلز میں بطور رپورٹر کام کرنے کے شوق پہلے کی نسبت زیادہ اجاگر ہورہاہے ۔ تاہم فیلڈ میں پہلے ہی کافی تعداد میں رپورٹرز موجود ہیں۔ایسے میں گریجوئیٹ ہونے والے طلباء کے لئے بڑے چینلز میں ملازمت حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ جو گریجوئیٹس کسی طرح سے اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ، وہ اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ مختلف واقعات کو کس طرح رپورٹ کیا جانا چاہیے ۔ اس کی بنیادی وجہ ان اداروں میں ٹریننگ پروگرام کا نہ ہو نا ہے تاہم کچھ چینلز میں باقاعدگی سے آن جاب ٹریننگ فراہم کی جاتی ہے جس میں جیو نیوز سر فہرست ہے۔
 
سوال: کس طرح آپ اپنی ڈیڈ لائن کو پورا کرتے ہیں؟
جواب:نیوز چینلز میں ہر دن اور ہر لمحے نئی خبر رپورٹر کا انتظار کرتی ہے اس لئے آپ کو اپنا اسائنمنٹ مختصر وقت میں مکمل کرنا ہوتا ہے اس چیز کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ کہیں آپ کی اسٹوری پرانی ہوکر رک نہ جائے۔ اگر اسی دوران کوئی اور بڑا واقعہ ہوگیا تو آپ کی بھر پومحنت سے تیار کی جانے والی رپورٹ نشر ہونے سے رہ سکتی ہے۔اسلیئے موجودہ صورتحال کے لحاظ سے رپورٹ پیش کرنا ہی مہارت ہے۔
 
سوال: آپ نے بہت سے مسائل کا سامنا کیا ہوگا کیونکہ یہ ایک حساس مسئلہ ہے اور صحا فیوں کو دھمکیاں ملتی رہتی ہے اس میں آپ کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب : میں اپنا کام ایمانداری سے کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں اور کامیاب بھی رہتا ہوں ۔ ایک چیز ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ آپ جو بھی خبر فائل کریں آپ کے پاس اس کے بارے میں ٹھوس ثبوت ہونے چاہیے اس طرح آپ بہت سے مشکلات سے بچ جاتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ، خبر میں رپورٹر کو اپنی رائے نہیں دینی چاہیے، صرف حقائق بیان کریں ۔اور رپورٹ میں اگر کسی ادارے یا شخصیت کا ذکر ہے تو بھر پور کوشش کریں کے ان کا مؤقف بھی خبر میں شامل ہو۔بعض اوقات رپورٹر ز اس وقت مشکل کا زیادہ شکار ہوتے ہیں جب ان باتوں کا خیال نہیں رکھتے ۔ 

سوال: آپ کوکرائم رپورٹر ہونے کے بارے میں سب سے بہتر کیا لگتا ہے اور اس کام میں بنیادی مسائل کیا ہے؟
جواب:میں ایک تحقیقاتی رپورٹر ہوں اور کسی بھی خبر کے اصل حقائق کا پتا لگانا ہی میرا مشن ہوتا ہے ۔ بعض اوقات رپورٹر ایک ایسی بند گلی میں پھنس جاتا ہے جہاں سے آگے کچھ نظر نہیں آتا ،میرا مطلب ہے کہ جہاں رپورٹر کو واقعے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل رہی ہوتی۔ سینئر صحافیوں کہ چونکہ رابطے زیادہ ہوتے ہیں اس لئے ایسی مشکلات کا کم ہی سامنا کرتے ہیں ، لیکن نئے آنے والے رپورٹر اکثر اس مشکل سے دوچار ہوتے ہیں۔ 

سوال: کرائمزکی رپورٹنگ کے لیے سب سے زیادہ کیا ضروری ہوتا ہے؟
جواب :فرض کریں کہ کہیں دھما کا ہوجائے ، تو جائے وقوعہ پر پہنچنے والے رپورٹر کو سب سے پہلے اپنے اوسان بحال کر کے جائے وقوعہ کا معائنہ کرنا چاہیے ۔ اس کے بعد وہاں موجود متعلقہ حکام سے جتنی زیادہ معلوما ت حاصل ہوسکے ، اس کا حصول یقینی بنائے۔واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے الفاظ کا چناؤمیں احتیاط رکھیں اور صر ف حقائق بیان کریں ۔
 
سوال: کرائمزکی رپورٹنگ کس طرح مختلف ہے دوسری رپورٹنگ سے اور اس میں کیا خطرات ہے؟؟
جواب:موجودہ حالات میں جب جائے وقوعہ سے عوام دور جارہی ہوتی ہے تو کرائم رپورٹرز حقائق جاننے کے لئے اس جانب لپک رہا ہوتا ہے ۔ ایسے موقع پر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ بعض موقع پر ایک بم دھماکے کے بعد ہونے والے دوسرے دھماکوں میں رپورٹرز اور کیمرہ مین ا پنی جانیں گنواں چکے ہیں جبکہ دیگر رپورٹنگ میں ایسے خطرات کم ہوتے ہیں ۔
------------------------------------------------------------------------------
شاہین رشید ایم اے پریویئس سیکنڈ سیمسٹر کی طالبہ کے طور پریہ انٹرویو نومبر 2013 میں لیا ۔

Practical work was done under supervision of Sir Sohail Sangi

پاکستان میں سیلاب


پاکستان میں سیلاب
آرٹیکل : شاہین رشید
پاکستان میں سیلاب آنا اب معمول ہوگیاہے ہمارے ہاں کسی چیز سے تباہی کا سلسلہ شروع ہوجائے تو اُسے ختم کرنا ایک ناممکن سی بات ہے چاہے وہ ڈینگی ہو، ڈرون حملے ہو،خودکش بم دھماکے یا اس سال بھی ہر سال کی طرح آنے والا سیلاب مگر ہماری حکومت نے ان سے نمٹنے کا کوئی راستہ نہیں نکالا۔ان تباہیوں سے ہونے والے نقصانات خواہ وہ جانی ہو یامالی ان سے نمٹنے کے لئے اگر عوام اپنی مدد آپ کے ذریعے کچھ کرئے تو ہم ان بڑے بڑے ہونے والے نقصانات سے تھوڑے محفوظ ہوجاتے ہیں ورنہ ہمارے انتظامی ادارے تو صرف باتیں کرنے کے لئے رہ گئے ہیں، اگر وہ عوام کے لیے کام کریں تو عوام آنے والے دور میں بھی ایسے ہی انتظامی اداروں کی حمایت کرے گے۔

رواں سال یعنی 2013میں بھی پاکستان میں سیلاب نے تباہی مچائی مگر 2010یا 2011میں یہ تباہی زیادہ تھی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمینٹ اتھارٹی کے مطابق اس سال پاکستان میں آنے والے سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 66لاکھ کے قریب ہے جس میں بہت سی اموات گھروں کے منہدم ہونے اور کرنٹ لگنے سے واقع ہوئی اور147.028ملین ایکڑ فصلوں کو سیلاب کی وجہ سے نقصان پہنچا 2374گھر تباہی کی نذر ہوگئے ہمارے غریب لوگ کس طرح تنکا تنکا کرکے اپنا گھر تعمیر کرتے ہیں اور کن مشکلات کا سامنا کرکے اتنی محنت سے فصلیں لگاتے اور دو دو لاکھ روپے جمع کرکے گائے اور بھینسیں خریدتے ہیں لیکن دریاؤں میں آنے والا سیلاب کتنی آسانی سے ان غریبوں کو تباہ وبرباد کر جاتا ہے پھر سیلابی پانی کے واپس ہونے تک ان غریبوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسکا تصور ہی خوف ناک ہے۔
یہ درست ہے کہ قدرتی آفات کا سو فیصد مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا ترقی یافتہ ممالک میں جن کے پاس ہر قسم کے وسائل ہے وہاں بھی سیلاب اور طوفان بڑی تباہی مچاتے ہیں لیکن وہاں اس سے متاثر ہونے والے افراد کے پاس امداد پہچانے میں دیر نہیں کی جاتی اور نہ آئندہ کے لئے احتیاطی اور حفاطتی تدابیر اپنانے میں سستی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اگر ہم بھی وقت پر سیلاب پر قابو پانے کی کوشش کریں تو اب تک کچھ نہ کچھ حل نکالنے میں کامیاب ہو جائیں۔
بارشوں کا موسم ہر سال آتا ہے اورمحکمہ موسمیات پہلے ہی پیش گوئی کردیتا ہے کہ اس سال بارشیں کتنی حد تک زیادہ یا کم ہوگی اس طرح کی پیشن گوئی کا مقصد صرف اور صرف عوام اور حکومت کو خبردار کرنا ہے تاکہ وہ احتیاطی تدابیر اپنائیں لیکن وہ ملک ہی کیا جہاں پاکستان کی جیسی عوام اور حکومت نہ ہو۔

ماضی کے بعد اس سال بھی بارشوں اور سیلاب کے بعد جس طرح کی کیفیت کا سامنا ہوا اس سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سیلاب سے نمٹنے کیلئے کوئی خاص تیاری نہیں کی گئی۔

(نومبر 2013)شاہین رشید ایم اے پریوئس سیکنڈ سیمسٹر کی طالبہ ہیں۔

Practical work was done under supervision of Sir Sohail Sangi