Pages

Thursday, July 23, 2015

اپنے حق کے لیے ہمیشہ آواز اُٹھانی چاہیے۔ محبوب قریشی

اپنے حق کے لیے ہمیشہ آواز اُٹھانی چاہیے۔ مزدور رہنما محبوب قریشی
امبرین فیاض

Feb 2014
  تعارف: کچھ لوگوں کی شہرت اُن کے پیشے سے ہوتی ہے لیکن ایسے چند افراد ہی ہیں جو اپنے پیشے کو شہرت بخشتے ہیں۔  محبوب قریشی کا شمار بھی ان ہی شخصیات میں ہوتا ہے، محبوب قریشی 1947 کو بھارت یو .پی کے شہر نصیر آباد میں پیدا ہوئے۔1950 میں اِن کا خاندان ہجرت کر کے حیدرآباد آگیا ، ابتدائی تعلیم حیدرآباد سے حاصل کی۔ عرصہ 30سال سے وہ مزدورں کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں اور آج بھی مزدور لیڈر کے حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔

س : آپ اس پیشے سے کب اور کیسے منسلک ہوئے ؟
ج : 1962 میں مزدورکی حیثیت سے کام شروع کیا، میرے والد بھی مزدور تھے۔دل میں ہمیشہ غریبوں سے ہمدردی کا جذبہ تھااور بھلائی کے لیے کام کرنا چا ہتا تھا اسی پاداش میں1968 میں نوکری سے برطرف کر کے جیل بھیج دیا گیا کیونکہ میں نے مزدورں کے حقوق کے لیے آواز اٹھا ئی تھی۔ میرے والد نے مجھے سمجھایا کہ ان سب سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا لیکن میں پچھے نہیں ہٹا اور اپنے حق کے لیے لڑا 2سال 2مہینے جیل میں رہااورکیس جیت گیا،اپنی نوکری پہ بحال کردیا گیا اوراُن 2سالوں کی تنخواہ بھی وصول کی۔وہاں سے مجھے احساس ہوا کہ مجھے مزدورں کے حقوق کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

سوال: آپ کو کن کن مزدور رہنماؤں کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملا؟
جواب: میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے ملک کے نہایت ہی سچے مزدور رہنماؤں سے تربیت ملی۔ مجھے شمیم واسطی، ڈاکٹر اعزاز نذیر، نبی احمد، حیدرآباد کے بشیر احمد، قلندر بخش مہر، استاد جمن، محمد بخش بلوچ کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملا یہ میرے سینئرز تھے۔ اور اپنے دور کے بڑے نام تھے۔ جبکہ عبدالحئی، اشفاق علی پیارے ، چچا مصطفیٰ، چچا مظہر حسین وغیرہ کے ساتھ کام کیا۔ اصل میں ساٹھ اور ستر کے عشرے میں ٹریڈ یونین تحریک عروج پر تھی۔ سندھ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن، مختلف ٹیکسٹائل ملوں میں مضبوط مزدور یونینز تھیں۔ بعد میں جب شگر انڈسٹری کا قیام عمل میں آیا تو وہاں بھی مضبوط مزدور تحریک بنی۔ یہاں تک کہ حیدرآباد میں رکشاء یونین بھی تھی ، جس کے لیڈر علی احمد بلوچ اور اشفاق پیارے تھے۔اسی طرح حیدرآباد میونسپل یونین تھی جہاں چندگی لال اور دوسرے لوگ کام کرتے تھے۔ ان سب کا الحاق پاکستان ورکرز فیڈریشن سے تھا۔ جس کا دفتر محمود چیمبرز گاڑی کھاتہ میں ہوا کرتا تھا۔ یہ فیڈریشن بائیں بازو کی ترقی پسند جماعت کا مزدور محاذ تھا۔

سوال : کیا وجہ ہے کے مختلف اِداروں اور فیکڑیوں میں مزدور سراپہ احتجاج بنے ہوئے ہیں ؟
جواب: کوئی بھی مسئلہ ہو جیسے تنخواہ ٹائم پر نہیں مل پا رہی ہو یا بونس میں حق مارا جا رہا ہے،تو مزدورں کی یونین ہمیشہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔جب انتظامیہ جب کوئی اقدام نہیں لیتی تو مزدور مجبوراََ کام بند کرکے ہڑتال پہ چلے جاتے ہیں لیکن وہ ہڑ تال قانون پر عمل درآمد کے لیے ہوتاہے۔

سوال : کیا مزدورں کو اُن کے حقوق مل رہے ہیں ؟ آپ مزدورں کو اُن کے حقوق دلانے میں کس حد تک کامیاب رہے ہیں ؟
جواب: ہمارے پاس لیبر قوانین تو موجود ہیں لیکن ان قوانین پر عمل درآمد نہیں ہوتا، قانون میں جو مزدورں کے بنیادی حقوق اور مراعات ہیں وہ نہیں مل رہے ہی جیسے کے مزدورں کے لیے ایک قانون ہے اگر کوئی بندہ دورانِ ملازمت انتقال کر جائے تو اُسے گروپ اِنشورنس کی رقم ملتی ہے جو کہ 2لاکھ روپے ہیں، ایسے کیسس میں جب انتظامیہ مزدورں کو ان کا حق فراہم نہیں کرتی تو ہم لیبر کورٹ میں کیس لڑ کر مزدور کو اُس کا حق دلاتے ہیں۔

سوال : آ پ جس پیشے سے وابستہ ہیں اس میں با اثر لوگوں کا اثر روسوخ بہت ہوتا ہے کیا آپ کبھی ایسے حالات سے دوچار ہو ئے ؟
جواب: 1975  کی بات ہے مزدورں کی یونین کا صدر تھا اُس وقت کی حکومت نے پیشکش کی کہ میں لیبر یو نین چھوڑ کر اُن کی حکومتی پارٹی کو جوائن کر وں جس کے بدلے وہ مجھے ہر طرح کے مراعات سے نوازے گے لیکن میں نے اُس پیشکش کوٹھکرایا اور ان سے کہا آپ ہمارے مقابلے اسپیشل یونین بنائے اور ریفرنڈم لگا کر ہم سے جیت کر دکھائے جس کے بدلے انھوں نے مجھے جیل بھیج دیا میں 15دن جیل میں رہا اور پھر ضمانت پر رہا ہو گیا تو مقصد یہ ہے کہ اس طرح کے بہت سے دباؤ کا شکار ہوتا رہا لیکن کبھی بھی ایسی پیشکش قبول نہیں کی۔

سوال : مزدورں کے لیے کوئی پیغام دینا چاہیں گے ؟
جواب: میں یہی کہنا چاہنگا کہ مزدورں کا حق کبھی کسی حکومت نے نہ دیا ہے اور نہ دیگی ۔اپنے حق کے لیے اور قانون پر عمل درآمد کرانے کے لیے آپکو متحد ہونا پڑے گا، ابھی تک جو حقوق بنے ہیں وہ مزدورں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔ اپنے حق کے لیے ہمیشہ آواز اُٹھائے اور جدو جہد کرتے رہیں۔

  
Interview by Ambreen Fayaz, BS part - III, as practical work under supervision of Sir Sohail Sangi, at Mass Comm Department University of Sindh
Feb 2014

Mehboob Qureshi speaks about Labour movement in Hyderabad 

2 comments:

  1. Labour leader Mehboob Qureshi speaks about trade Union movement in Hyderabad, Interview by Ambreen Fayaz

    ReplyDelete
  2. Good reference about labour movement in Hyderabad, Mehboob Ali Qureshi can tell much more about it

    ReplyDelete